Surah-Nisaa-11-14-Part-04-علم-المراث__00_16_27154__00_31_55554

Muhammad Younus

Muhammad Younus

Dec 19, 2025 6:35 PM

Summary

Transcript

دو تہائی مل گیا اور سعاد بن ربی کی بیوی کو آٹھما حصہ مل گیا چونکہ اولاد ہونے کی صورت میں بیوی کا آٹھما حصہ ہے اور باقی جو بچ گیا وہ چچا کو دیا گیا ایک اور روایت میں آتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے مقرر کردہ حصے حصہ داروں کو ادا کرو پھر جو باقی بچے وہ قریب ترین رشتہ دار مرد کا ہے اسے بخاری نے روایت کیا ہے اور قریب ترین رشتہ دار مرد یعنی عصابہ کا ہے تو عصابہ قریب ترین مرد رشتہ دار ہوتا ہے
اور عصابہ سب سے پہلے اولاد سے دیکھا جائے گا پھر چچاؤں میں سے اور پھر ان کے بیٹوں میں سے اگر کسی میت کے اصحاب الفروز اور عصابہ بھی نہیں ہیں تو میراس ذوال ارحام یعنی میت کی بہنوں بیٹیوں اور بھتیجوں کی اولاد اور مامو خالہ وغیرہ میں تقسیم ہوگی اس بارے میں ایک روایت بھی آتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا وارث مامو ہے وہی اس کی طرف سے دید دے گا اور وہی وارث ہوگا اسے ابو دعوت نے روایت کیا ہے
تو اگر کسی میت کے اصحاب الفروز اور عصابہ بھی نہیں تو میراس ذوال ارحام میں بانٹی جائے گی پھر بھائی بہن تین تنہا کے ہوتے ہیں اس بارے میں ہم نے آپ کو واضح کر دیا تھا ایک اینی یعنی سگے بھائی بہن جن کے ماں باپ ایک ہی ہوں جنہیں ہم حقیقی بھائی بہن کہتے ہیں پھر علاتی جو باپ کی طرف سے ہوتے ہیں یعنی باپ ایک ہے ماں فرک ہے پھر اخیافی جو ماں کی طرف سے ہوتے ہیں یعنی ماں ایک ہے باپ فرک ہے اور ہم نے جو یہ کلالہ کا حکم پڑا تو یہاں پر جن بھائی بہنوں کا ذکر کیا جا رہا ہے
وہ اخیافی بھائی بہن ہے کیونکہ عربوں کے ہاں یہی سوتلے سمجھے جاتے تھے عربوں کے ہاں اینی بھائی بہنوں کی طرح ہی علاتی بھائی بہنوں کو شمار کیا جاتا تھا یعنی جیسے عینی بھائی سگے بھائی بہن ہوتے ہیں بلکل اسی طرح سے علاتی بھی سگے بھائی بہنوں کی طرح شمار ہوتے تھے ان کے نزدیک اخیافی بھائی بہن ہی سوتلے شمار ہوتے تھے وراست کی تقسیم زندگی میں نہیں ہو سکتی مرنے کے بعد ہوگی کیونکہ مرنے کے بعد مال مطروقہ ہوتا ہے زندگی میں کوئی اپنی وراست کو تقسیم کرے
تو ایسا نہیں ہو سکتا جس کی وراست تقسیم ہو رہی ہو اس کے وارث کا زندہ ہونا بھی ضروری ہے مثلا اگر کوئی ایک بیٹا فوت ہو گیا ہے تو اس بیٹے کا حصہ اب نہیں ہوگا مراست ہر حال میں تقسیم ہونی چاہیے خواہ کم ہو یا زیادہ یہ بھی ہم نے پڑا ان آیات میں وراست کا قانون ہر طرح کے مال پر لاغو ہوگا یعنی رقم جائدات بڑتن استعمال کی چیزیں سونا چاندی بھیر بکریاں یعنی مال کی کوئی بھی قسم ہو سب تقسیم ہوگا تمام جائدات کی تقسیم ایک ہی وقت میں فوراں کر دینی چاہیے
سوائے ایک صورت کے اور وہ صورت یہ ہے کہ جب مید کی بیوی کو بچہ پیدا ہونے والا ہو یعنی عورت حاملہ ہو صرف اسی صورت میں تقسیم فوراں نہیں کی جائے گی اور انتظار کیا جائے گا کہ بیٹا پیدا ہوتا ہے یا بیٹی پھر وہ زندہ بھی پیدا ہوتا ہے یا نہیں پھر اسی اعتبار سے تقسیم ویراست ہوگی اگر طلاق رجع کے دوران شہر فوت ہو جائے تو بیوی بھی وارس ہوگی شرط یہ ہے کہ وہ عدد میں ہو اگر عدد ختم ہو گئی ہے پھر وہ وارس نہیں ہے ایک وارس دوسرے وارس سے حصہ خرید سکتا ہے
یعنی ویراست کی تقسیم ہو گئی اور پھر اس کے بعد اگر کوئی وارس کسی دوسرے وارس کا حصہ خریدنا چاہتا ہے تو وہ خرید سکتا ہے اگر کوئی ایک گھر ہے تمام بہن بھائیوں میں اس کی رقم کو بانڈ دیا گیا کہ یہ اتنی مالیت کا گھر ہے پھر اس میں سے کوئی ایک وارس یہ کہے کہ یہ گھر میں خرید لیتا ہوں اور جس کی جتنی رقم بنتی ہے اس کو میں آدھا کر دیتا ہوں تو ایسا کیا جا سکتا ہے پھر آخر آیات میں جو ہم نے پڑا کہ جو شخص ویراست کی تقسیم اللہ کے مقرر کیے ہوئے
حصوں کے مطابق نہیں کرے گا وہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہے گا پھر ایک اور اہم ترین بات کہ adopted child یعنی جو بچے لے پالک ہوتے ہیں ان کا ویراست میں کوئی حصہ نہیں پھر مو بولے بیٹے یا بیٹی کا بھی کوئی حصہ نہیں وسیط کرنا فرض نہیں ہے یعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ اپنے مال کا ایک تہائی کہیں نہ کہیں وسیط کر کے جائیں ایسا نہیں ہے وسیط کرنا کوئی فرض بات نہیں ہے اور وارث کے حق میں تو وسیط ہوتی نہیں اگر کسی کو وسیط کرنی ہے تو وہ ایک تہائی سے زیادہ
نہیں کر سکتا پھر آق نامہ کی کوئی شریح حصہ نہیں آق نامہ کہتے ہیں ایک ایسا document جس میں کسی نہ کسی اولاد کو یا کسی نہ کسی حقیقی وارث کو اپنی جائیدات سے بے دخل کر دیا جاتا ہے اور اس کا ایک document تیار کیا جاتا ہے جس میں لکھا ہوا ہوتا ہے کہ میں فلاں فلاں بیٹے کو یا فلاں فلاں بیٹی کو یا فلاں وارث کو اپنی جائیدات سے آق کیا تو شریعت میں اس آق نامہ کی کوئی حسیت نہیں ہے وارثوں کے جو حقوق اللہ تعالیٰ نے بتا دیئے ہیں ان کو ان کا حصہ
دینا ہوگا یہ لازم ہے پھر کچھ احادیث بھی آتی ہیں جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے کہ دادا کا حصہ سیدنا عمران رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا میرا پوتا مر گیا ہے مجھے اس کے ترکہ سے کیا ملے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھتا حصہ یہ وہی باپ والا حصہ ہے جو دادا کو ملے گا وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر کہا کہ تیرے لیے ایک چھتا حصہ اور ہے پھر اس کی وضاحت کی
کہ یہ دوسرا چھتا حصہ تمہارے لیے بطور خوراک ہے اسے ابو دعوت نے روایت کیا ہے اور ترمیزی کی روایت میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں یعنی بطور عائشہ باہ ہے یعنی دادا کو جو دوسرا چھتا حصہ ملا وہ عائشہ باہ کے طور پر ملا وارثوں میں صرف دادا ہی باقی تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تقسیم بتائی پھر دادی اور نانی کا حصہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب ماں نہ ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دادی یا نانی کا چھتا حصہ مقرر فرمایا
اسے ابو دعوت نے روایت کیا ہے اب نانی اور دادی کا بھی آپ حصہ دیکھیں تو ماں والا ہی ہے لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ جب ماں نہ ہو تو دادی یا نانی کو چھتا حصہ جائے گا اور اس میں بھی ترتیب کچھ یوں ہوگی کہ ماں نہ ہو تو دادی کو دیا جائے گا اور اگر دادی بھی نہ ہو تو پھر نانی کی طرف یہ حصہ چلا جائے گا ایک اور روایت آتی ہے سید ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ نے فرماتے ہیں کہ میں بیٹی اور پوتی اور بہن کے متعلق وہی فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا تھا بیٹی کو نصف ملے گا جیسا کہ ہم پڑھ بھی چکے ہیں کہ اگر کسی کی ایک بیٹی ہو پوتی کو چھٹا حصہ تاکہ دو تہائی پورا ہو جائے کیونکہ موننس اولاد کا زیادہ سے زیادہ حصہ دو تہائی ہے باقی بہن کو ملے گا اسے بخاری نے روایت کیا ہے یہ تب ہوتا ہے جب اولادِ نرینہ نہ ہو مردوں میں سے کوئی بھی وارث نہ ہو اگر ایک بیٹی اور ایک بہن ہو اس بارے میں بھی ایک روایت آتی ہے اسود بن یزید رضی اللہ تعالیٰ نہوں کہتے ہیں کہ معاعز بن جبل یمن میں ہمارے پاس
معلم اور امیر بن کر آئے ہم نے ان سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے مرتے وقت ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑی انہوں نے بیٹی کو نصف دیا اور بہن کو بھی نصف دیا اسے بخاری نے روایت کیا ہے اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیات تھے یہ حدیث ابودعود میں بھی آتی ہے پھر بھتیجے کا حصہ پھوپی سے سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ نہوں تعجب سے فرمایا کرتے تھے کہ بھتیجہ تو پھوپی کا وارث ہے مگر پھوپی بھتیجے کی وارث نہیں موتا امام مالک میں یہ حدیث آتی ہے
ان کو حیرت ہوتی تھی کہ بھتیجہ تو پھوپی کا وارث ہے لیکن پھوپی بھتیجے کی وارث نہیں عمومی طور پر تو ایسا ہوتا ہے کہ اگر میرا کوئی وارث ہے لیکن یہاں پر آپ دیکھیں بھتیجہ پھوپی کا وارث ہے لیکن پھوپی بھتیجے کی وارث نہیں ہے یہاں تک یہ کچھ وضاحتیں تھیں جو ہم نے آپ کے سامنے رکھی انشاءاللہ اب ہم کچھ کیلکولیشنز بھی آپ کو سکھائیں گے تقسیم کی مثالوں سے پہلے ہم ان آیات کی تلاوت سن لیتے ہیں ونحن أولادكم للذكر مثل حظ الأنسين فإن كنا نساء
فوق اثنتين فلهن سلسا ما ترك وإن كانت واحدة فلهن نصف ولأبويه لكل واحد منهما السدس مما ترك إن كان له ولد فإن لم يكن له ولد وورثه أبواه فلأمه الثلث فإن كان له إخوة فلأمه السدس من بعد وصية
يوصي بها أودين آباءكم وأبناءكم لا تدرون أيهم أقرب لكم نفعا فريضة من الله إن الله كان عليما حكيما ولكم نصف ما ترك أزواجكم إن لم يكن لهن ولد فإن كان لهن ولد فلكم الربع مما
تركنا من بعد وصية يوصين بها أودين ولهن الربع مما تركتم إن لم يكن لكم ولد فإن كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم من بعد وصية من بعد وصية توصون بها أودين وإن
كان رجل يورث كلالة أو امرأة وله أخ أو أخت فلكل واحد فلكل واحد منهما السدس فإن كانوا أكثر من ذلك فإن كانوا أكثر من ذلك فهم شركاء في الثلث من بعد وصية من بعد وصية يوصى بها أودين غير مضار
وصية من الله والله الله عليم حليم تلك حدود الله ومن يطع الله ورسوله يدخله جنات يدخله جنات تجري من تحتها الأنهار خالدين فيها وذلك الفوز العظيم ومن يعص الله ورسوله ويتعد حدوده يدخله نارا
يدخله نارا خالدا فيها وله عذاب مهين

Share This Audio Transcript & Summary 📚

Surah-Nisaa-11-14-Part-04-علم-المراث__00_16_27154__00_31_55554

00:00
15:28