دو تہائی مل گیا اور سعاد بن ربی کی بیوی کو آٹھما حصہ مل گیا چونکہ اولاد ہونے کی صورت میں بیوی کا آٹھما حصہ ہے اور باقی جو بچ گیا وہ چچا کو دیا گیا ایک اور روایت میں آتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے مقرر کردہ حصے حصہ داروں کو ادا کرو پھر جو باقی بچے وہ قریب ترین رشتہ دار مرد کا ہے اسے بخاری نے روایت کیا ہے اور قریب ترین رشتہ دار مرد یعنی عصابہ کا ہے تو عصابہ قریب ترین مرد رشتہ دار ہوتا ہے
اور عصابہ سب سے پہلے اولاد سے دیکھا جائے گا پھر چچاؤں میں سے اور پھر ان کے بیٹوں میں سے اگر کسی میت کے اصحاب الفروز اور عصابہ بھی نہیں ہیں تو میراس ذوال ارحام یعنی میت کی بہنوں بیٹیوں اور بھتیجوں کی اولاد اور مامو خالہ وغیرہ میں تقسیم ہوگی اس بارے میں ایک روایت بھی آتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا وارث مامو ہے وہی اس کی طرف سے دید دے گا اور وہی وارث ہوگا اسے ابو دعوت نے روایت کیا ہے
تو اگر کسی میت کے اصحاب الفروز اور عصابہ بھی نہیں تو میراس ذوال ارحام میں بانٹی جائے گی پھر بھائی بہن تین تنہا کے ہوتے ہیں اس بارے میں ہم نے آپ کو واضح کر دیا تھا ایک اینی یعنی سگے بھائی بہن جن کے ماں باپ ایک ہی ہوں جنہیں ہم حقیقی بھائی بہن کہتے ہیں پھر علاتی جو باپ کی طرف سے ہوتے ہیں یعنی باپ ایک ہے ماں فرک ہے پھر اخیافی جو ماں کی طرف سے ہوتے ہیں یعنی ماں ایک ہے باپ فرک ہے اور ہم نے جو یہ کلالہ کا حکم پڑا تو یہاں پر جن بھائی بہنوں کا ذکر کیا جا رہا ہے
وہ اخیافی بھائی بہن ہے کیونکہ عربوں کے ہاں یہی سوتلے سمجھے جاتے تھے عربوں کے ہاں اینی بھائی بہنوں کی طرح ہی علاتی بھائی بہنوں کو شمار کیا جاتا تھا یعنی جیسے عینی بھائی سگے بھائی بہن ہوتے ہیں بلکل اسی طرح سے علاتی بھی سگے بھائی بہنوں کی طرح شمار ہوتے تھے ان کے نزدیک اخیافی بھائی بہن ہی سوتلے شمار ہوتے تھے وراست کی تقسیم زندگی میں نہیں ہو سکتی مرنے کے بعد ہوگی کیونکہ مرنے کے بعد مال مطروقہ ہوتا ہے زندگی میں کوئی اپنی وراست کو تقسیم کرے
تو ایسا نہیں ہو سکتا جس کی وراست تقسیم ہو رہی ہو اس کے وارث کا زندہ ہونا بھی ضروری ہے مثلا اگر کوئی ایک بیٹا فوت ہو گیا ہے تو اس بیٹے کا حصہ اب نہیں ہوگا مراست ہر حال میں تقسیم ہونی چاہیے خواہ کم ہو یا زیادہ یہ بھی ہم نے پڑا ان آیات میں وراست کا قانون ہر طرح کے مال پر لاغو ہوگا یعنی رقم جائدات بڑتن استعمال کی چیزیں سونا چاندی بھیر بکریاں یعنی مال کی کوئی بھی قسم ہو سب تقسیم ہوگا تمام جائدات کی تقسیم ایک ہی وقت میں فوراں کر دینی چاہیے
سوائے ایک صورت کے اور وہ صورت یہ ہے کہ جب مید کی بیوی کو بچہ پیدا ہونے والا ہو یعنی عورت حاملہ ہو صرف اسی صورت میں تقسیم فوراں نہیں کی جائے گی اور انتظار کیا جائے گا کہ بیٹا پیدا ہوتا ہے یا بیٹی پھر وہ زندہ بھی پیدا ہوتا ہے یا نہیں پھر اسی اعتبار سے تقسیم ویراست ہوگی اگر طلاق رجع کے دوران شہر فوت ہو جائے تو بیوی بھی وارس ہوگی شرط یہ ہے کہ وہ عدد میں ہو اگر عدد ختم ہو گئی ہے پھر وہ وارس نہیں ہے ایک وارس دوسرے وارس سے حصہ خرید سکتا ہے
یعنی ویراست کی تقسیم ہو گئی اور پھر اس کے بعد اگر کوئی وارس کسی دوسرے وارس کا حصہ خریدنا چاہتا ہے تو وہ خرید سکتا ہے اگر کوئی ایک گھر ہے تمام بہن بھائیوں میں اس کی رقم کو بانڈ دیا گیا کہ یہ اتنی مالیت کا گھر ہے پھر اس میں سے کوئی ایک وارس یہ کہے کہ یہ گھر میں خرید لیتا ہوں اور جس کی جتنی رقم بنتی ہے اس کو میں آدھا کر دیتا ہوں تو ایسا کیا جا سکتا ہے پھر آخر آیات میں جو ہم نے پڑا کہ جو شخص ویراست کی تقسیم اللہ کے مقرر کیے ہوئے
حصوں کے مطابق نہیں کرے گا وہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہے گا پھر ایک اور اہم ترین بات کہ adopted child یعنی جو بچے لے پالک ہوتے ہیں ان کا ویراست میں کوئی حصہ نہیں پھر مو بولے بیٹے یا بیٹی کا بھی کوئی حصہ نہیں وسیط کرنا فرض نہیں ہے یعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ اپنے مال کا ایک تہائی کہیں نہ کہیں وسیط کر کے جائیں ایسا نہیں ہے وسیط کرنا کوئی فرض بات نہیں ہے اور وارث کے حق میں تو وسیط ہوتی نہیں اگر کسی کو وسیط کرنی ہے تو وہ ایک تہائی سے زیادہ
نہیں کر سکتا پھر آق نامہ کی کوئی شریح حصہ نہیں آق نامہ کہتے ہیں ایک ایسا document جس میں کسی نہ کسی اولاد کو یا کسی نہ کسی حقیقی وارث کو اپنی جائیدات سے بے دخل کر دیا جاتا ہے اور اس کا ایک document تیار کیا جاتا ہے جس میں لکھا ہوا ہوتا ہے کہ میں فلاں فلاں بیٹے کو یا فلاں فلاں بیٹی کو یا فلاں وارث کو اپنی جائیدات سے آق کیا تو شریعت میں اس آق نامہ کی کوئی حسیت نہیں ہے وارثوں کے جو حقوق اللہ تعالیٰ نے بتا دیئے ہیں ان کو ان کا حصہ
دینا ہوگا یہ لازم ہے پھر کچھ احادیث بھی آتی ہیں جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے کہ دادا کا حصہ سیدنا عمران رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا میرا پوتا مر گیا ہے مجھے اس کے ترکہ سے کیا ملے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھتا حصہ یہ وہی باپ والا حصہ ہے جو دادا کو ملے گا وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر کہا کہ تیرے لیے ایک چھتا حصہ اور ہے پھر اس کی وضاحت کی
کہ یہ دوسرا چھتا حصہ تمہارے لیے بطور خوراک ہے اسے ابو دعوت نے روایت کیا ہے اور ترمیزی کی روایت میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں یعنی بطور عائشہ باہ ہے یعنی دادا کو جو دوسرا چھتا حصہ ملا وہ عائشہ باہ کے طور پر ملا وارثوں میں صرف دادا ہی باقی تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تقسیم بتائی پھر دادی اور نانی کا حصہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب ماں نہ ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دادی یا نانی کا چھتا حصہ مقرر فرمایا
اسے ابو دعوت نے روایت کیا ہے اب نانی اور دادی کا بھی آپ حصہ دیکھیں تو ماں والا ہی ہے لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ جب ماں نہ ہو تو دادی یا نانی کو چھتا حصہ جائے گا اور اس میں بھی ترتیب کچھ یوں ہوگی کہ ماں نہ ہو تو دادی کو دیا جائے گا اور اگر دادی بھی نہ ہو تو پھر نانی کی طرف یہ حصہ چلا جائے گا ایک اور روایت آتی ہے سید ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ نے فرماتے ہیں کہ میں بیٹی اور پوتی اور بہن کے متعلق وہی فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا تھا بیٹی کو نصف ملے گا جیسا کہ ہم پڑھ بھی چکے ہیں کہ اگر کسی کی ایک بیٹی ہو پوتی کو چھٹا حصہ تاکہ دو تہائی پورا ہو جائے کیونکہ موننس اولاد کا زیادہ سے زیادہ حصہ دو تہائی ہے باقی بہن کو ملے گا اسے بخاری نے روایت کیا ہے یہ تب ہوتا ہے جب اولادِ نرینہ نہ ہو مردوں میں سے کوئی بھی وارث نہ ہو اگر ایک بیٹی اور ایک بہن ہو اس بارے میں بھی ایک روایت آتی ہے اسود بن یزید رضی اللہ تعالیٰ نہوں کہتے ہیں کہ معاعز بن جبل یمن میں ہمارے پاس
معلم اور امیر بن کر آئے ہم نے ان سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے مرتے وقت ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑی انہوں نے بیٹی کو نصف دیا اور بہن کو بھی نصف دیا اسے بخاری نے روایت کیا ہے اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیات تھے یہ حدیث ابودعود میں بھی آتی ہے پھر بھتیجے کا حصہ پھوپی سے سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ نہوں تعجب سے فرمایا کرتے تھے کہ بھتیجہ تو پھوپی کا وارث ہے مگر پھوپی بھتیجے کی وارث نہیں موتا امام مالک میں یہ حدیث آتی ہے
ان کو حیرت ہوتی تھی کہ بھتیجہ تو پھوپی کا وارث ہے لیکن پھوپی بھتیجے کی وارث نہیں عمومی طور پر تو ایسا ہوتا ہے کہ اگر میرا کوئی وارث ہے لیکن یہاں پر آپ دیکھیں بھتیجہ پھوپی کا وارث ہے لیکن پھوپی بھتیجے کی وارث نہیں ہے یہاں تک یہ کچھ وضاحتیں تھیں جو ہم نے آپ کے سامنے رکھی انشاءاللہ اب ہم کچھ کیلکولیشنز بھی آپ کو سکھائیں گے تقسیم کی مثالوں سے پہلے ہم ان آیات کی تلاوت سن لیتے ہیں ونحن أولادكم للذكر مثل حظ الأنسين فإن كنا نساء
فوق اثنتين فلهن سلسا ما ترك وإن كانت واحدة فلهن نصف ولأبويه لكل واحد منهما السدس مما ترك إن كان له ولد فإن لم يكن له ولد وورثه أبواه فلأمه الثلث فإن كان له إخوة فلأمه السدس من بعد وصية
يوصي بها أودين آباءكم وأبناءكم لا تدرون أيهم أقرب لكم نفعا فريضة من الله إن الله كان عليما حكيما ولكم نصف ما ترك أزواجكم إن لم يكن لهن ولد فإن كان لهن ولد فلكم الربع مما
تركنا من بعد وصية يوصين بها أودين ولهن الربع مما تركتم إن لم يكن لكم ولد فإن كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم من بعد وصية من بعد وصية توصون بها أودين وإن
كان رجل يورث كلالة أو امرأة وله أخ أو أخت فلكل واحد فلكل واحد منهما السدس فإن كانوا أكثر من ذلك فإن كانوا أكثر من ذلك فهم شركاء في الثلث من بعد وصية من بعد وصية يوصى بها أودين غير مضار
وصية من الله والله الله عليم حليم تلك حدود الله ومن يطع الله ورسوله يدخله جنات يدخله جنات تجري من تحتها الأنهار خالدين فيها وذلك الفوز العظيم ومن يعص الله ورسوله ويتعد حدوده يدخله نارا